Headlines
Published On:Saturday, September 6, 2014
Posted by Unknown

کس میں کتنا ہے دم، کرکٹرز فٹنس کی کڑی آزمائش سے گزرنے لگے

لاہور: ’’کس میں کتنا ہے دم‘‘؟ قومی کرکٹرزفٹنس کی کڑی آزمائش سے گزرنے لگے، کنٹریکٹ یافتہ 28 کھلاڑیوں نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں رپورٹ کردی۔

http://express.pk/wp-content/uploads/2014/09/286144-ThePakistancricketteamAFP-1410038602-276-640x480.jpg 

شاہد آفریدی بیرون ملک، وہاب ریاض بیٹی کی بیماری، ناصر جمشید اپنی شادی کے سبب نہ آسکے، ٹوئنٹی 20 چیمپئنز لیگ کیلیے لاہور لائنز میں شامل پلیئرز بھی ٹیسٹ دیں گے، پہلے روز 15 کرکٹرز کی جسمانی لچک، پھرتی، قوت اور اسٹیمنا کا جائزہ لینے کیلیے مختلف ٹیسٹ کرکے ڈیٹا مرتب کرلیا گیا، اتوار کو دوسرے مرحلے میں دیگر کی صلاحیت بھی جانچی جائیگی، آسٹریلیا کیخلاف یواے ای میں سیریز کیلیے اسکواڈ کا انتخاب کرتے ہوئے ایک ہفتے میں مکمل ہونے والی حتمی رپورٹ کو پیش نظر رکھا جائیگا۔
تفصیلات کے مطابق پی سی بی نے متعدد کرکٹرز کے فٹنس مسائل سامنے آنے پر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی طرز پر خصوصی پلان شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا،نیشنل اکیڈمی کے ہیڈ کوچ اور قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن محمد اکرم نے مکمل پروگرام مرتب کرکے بورڈ کے حوالے کیا، ورلڈ ٹوئنٹی 20 میں ٹیم تاریخ میں پہلی بار سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہوئی، بعدازاں اگست تک کے فارغ وقت میں قذافی اسٹیڈیم اور این سی اے میں ایک ماہ تک سخت گرمی میں کھلاڑیوں کے پسینے چھڑا کر انھیں سپر فٹ بنانے کی کوشش ہوئی، محمد اکرم کا خیال تھا کہ پلیئرز تربیتی کیمپس کے دوران تو فزیو کی ہدایات اور غذائی پلان پر عمل کرتے لیکن بعد ازاں بے فکر ہوجاتے ہیں، اسی رجحان کی حوصلہ شکنی کیلیے سال میں 4 بار فٹنس ٹیسٹ لینے کا فیصلہ کیا گیا جس سے کھلاڑی مطلوبہ معیار برقرار رکھنے پر مجبور ہونگے۔
ورلڈ کپ سے قبل سپر فٹ کرکٹرز کی دستیابی سے نتائج پر بھی مثبت اثر پڑیگا۔ مزید براں اس ضمن میں غفلت کا شکار ہونے والوں کو جرمانے کرنے کی شق بھی سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل ہے،قومی ٹیم کو آئندہ ماہ یو اے ای میں آسٹریلیا کے مقابل ہونا ہے،سیریز کیلیے تربیتی کیمپ سے قبل فٹنس جانچنے کا دوسرا مرحلہ ہفتے کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں شروع ہوا، اس موقع پر 28 کنٹریکٹ یافتہ کرکٹرز موجود تھے۔ شاہد آفریدی اسپتال کیلیے فنڈز جمع کرنے کی خاطر بیرون ملک ہیں، وہاب ریاض بیٹی کی بیماری اور ناصر جمشید اپنی شادی کی وجہ سے رپورٹ نہ کرسکے،ان کے ٹیسٹ بعد میں ہوںگے۔ فیملی سے ملنے کیلیے آسٹریلیا روانہ ہونے والے ہیڈ کوچ وقار یونس بھی موجود نہ تھے۔
چیف سلیکٹر اور ٹیم منیجر معین خان، این سی اے کے ہیڈ کوچ محمد اکرم، بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور، فیلڈنگ کوچ گرانٹ لیوڈن، پی سی بی کے ڈاکٹرسہیل سلیم اور دیگر معاون اسٹاف نے 15 کرکٹرز کی فٹنس جانچی،اس دوران کھلاڑیوں کا وزن نوٹ کرنے کے بعد بلیپ ٹیسٹ لیے گئے، جسمانی لچک، پھرتی، قوت اور اسٹیمنا کا جائزہ لینے کیلیے شارٹ رننگ و پش اپس سمیت مختلف آزمائشوں سے گزارتے ہوئے جدید مشینوں کی مدد سے ڈیٹا مرتب کرلیا گیا۔
بورڈ ذرائع کے مطابق ہر کھلاڑی کا حتمی انفرادی ریکارڈ تیار کرتے ہوئے 3 ماہ قبل کی رپورٹ کو بھی پیش نظر رکھا جائیگا جس سے فٹنس میں بہتری یا تنزلی کا حتمی فیصلہ ممکن ہوگا،سلیکشن کمیٹی اور ٹیم مینجمنٹ کے ارکان اس موازنے میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں،ٹیسٹ کے مراحل مکمل ہونے کے بعد حتمی رپورٹ کی تیاری کیلیے ایک ہفتہ درکار ہوگا، آسٹریلیا کیخلاف یو اے ای میں شیڈول سیریز کیلیے حتمی اسکواڈ کا اعلان کرنے سے قبل ہر کھلاڑی کی فٹنس کا بغور جائزہ لیا جائیگا، مطلوبہ معیار برقرار نہ رکھ پانے والوں کو جرمانے ہونگے۔
انجری یا فٹنس کے حوالے سے ذرا سی بھی مشکوک صورتحال سامنے آنے پر کرکٹر کو نظر انداز کردیا جائیگا۔ دوسری جانب ٹوئنٹی 20 چیمپئنز لیگ میں شرکت کیلیے بھارتی ویزوں کی منتظر لاہور لائنز ٹیم میں شامل قومی کرکٹرز کو بھی فٹنس ٹیسٹ دینا ہوگا، کپتان محمد حفیظ، احمد شہزاد، وہاب ریاض اور ناصر جمشید کو بھی لازمی طور پر اس آزمائش سے گزرنا ہوگا، ڈومیسٹک چیمپئن ٹیم کا تربیتی کیمپ بارش سے متاثر ہوا، جمعہ ،ہفتہ اور اتوار کو شیڈول پریکٹس میچز نہ ہونے کے بعد کھلاڑی این سی اے میں انڈور پریکٹس پر مجبور ہیں،گذشتہ شب بھی ٹیم کا نیٹ سیشن کوچ محسن کمال کی نگرانی میں 7 سے 9 بجے تک جاری رہا۔

 

About the Author

- I'm a Digital Marketer , Web Designer and Auditor by profession. I love to write and explore different things and share my experiences with people. I like honest and loyal people around me.

Unknown 7:34 PM . .

By Unknown on 7:34 PM. Filed under . Follow any responses to the RSS 2.0. Leave a response

0 comments for "کس میں کتنا ہے دم، کرکٹرز فٹنس کی کڑی آزمائش سے گزرنے لگے"

Leave a reply