Posted by Unknown | Saturday, September 20, 2014 |
Posted in
Health,
Health/Science
Karachi: National Institute of Child Health trainee doctors to protest non-payment of salaries stopped working.
کراچی: نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کے زیر تربیت ڈاکٹروں نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر احتجاج کرتے ہوئے کام روک دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ میں تعینات پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹروں نے اپنے مطالبات کے حق میں فرائض کی انجام دہی چھوڑ کر احتجاج شروع کردیا، زیر تربیت ڈاکٹروں کے احتجاج کی وجہ سے او پی ڈیز اور آپریشن تھیٹرز کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی سینیئر ڈاکٹرز اور کنسلٹنٹس فرائض انجام دینے لگے جس کے باعث درجنوں آپریشن ملتوی کردیئے گئے۔
احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ اسپتال میں انتہائی نامساعد حالات کے باوجود اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہیں لیکن حکومت کی جانب سے گزشتہ 4 ماہ سے انہیں تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی گئی جس نے انہیں احتجاج پر مجبور کردیا گیا ہے۔ اگر انہیں تنخواہیں ادا نہ کی گئیں تو وہ اپنے احتجاج کا دائرہ بڑھادیں گے۔
Posted by Unknown | Tuesday, September 9, 2014 |
Posted in
Health
نیو یارک: ماہرین موسمیات اور
سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 30 سال میں کاربن ڈائی آکسائید کے
اخراج میں تیزی سے اضافے کے باعث ماحول میں گرین ہاؤس گیسزکی سطح میں غیر
معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ زمین ان گیسوں کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت
بھی کھو بیٹھی ہے۔
عالمی موسمیات کی تنظیم کے جنرل سیکریٹری مائیکل جراڈ نے
واضح کیا ہے کہ 1984 سے لے کر اب تک 2013 میں سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسز
کی سطح میں اضافہ ہوا ہے جب کہ دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو ہماری فضا میں
زہریلی گیسوں نے ڈیرے جما لیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک
نہیں کہ آب و ہوا تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، انسانی سرگرمیوں اور ایندھن
کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث موسم شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے
اخراج میں اضافے کے باعث ہمارے سیارے کی ان گیسوں کو جذب کرنے کی قدرتی
صلاحیت ختم ہوتی جارہی ہے۔ سمندر میں تیزابیت تیزی سے بڑھ رہی ہےاور اس میں
1984 کے بعد سے مزید تیزی آئی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے یہ صورت حال عالمی
سطح پر فوری ماحولیاتی معاہدے کا تقاضا کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2013 میں
ماحول میں اوسط کاربن ڈائی آکسائیڈ کی تعداد 396 پارٹس پر ملین تک پہنچ
گئی ہے یعنی گزشتہ سال کےمقابلے میں 3پی پی ایم کا اضافہ ریکارڈ گیا گیا
ہے۔ پی پی ایم ایک ایسی اکائی ہے جسے ہوا میں آلودگی ناپنے کے لیے استعمال
کیا جاتا ہے عام طور پر 10 ہزار پی پی ایم ایک فیصد کے برابر ہوتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک طرف تو کاربن کے اخراج
میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری طرف زمین کے بائیو سفیر میں اس اخراج کو جذب
کرنے کی صلاحیت بھی کم ہورہی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ نیا انکشاف
ان کے لیے پریشانی کا باعث ہے اور اس کے زمین پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق 1990 سے لے کر 2013 کے درمیان کاربن ڈآئی آکسائید، متیھین
اور نائٹرس آکسائیڈ کے اخراج میں اضافے کے باعث درجہ حرارت میں 34 فیصد
تک اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی دعوت پر 23 ستمبر کو عالمی رہنما نیویارک
میں جمع ہو رہے ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ یہ رہنما عالمی ماحول کے
حوالے سے کسی معاہدے پر پہنچ جائیں جو زمین کے مستقبل کے لئے انتہائی اہم
ہوگا۔
Posted by Unknown | Sunday, September 7, 2014 |
Posted in
Health
ہرانسان میں ہمیشہ تندرست ،توانا،صحت مند اور چاق و چوبند رہنے کی
خواہش موجود ہوتی ہے ۔وہ نہیں چاہتا کہ زندگی کے کسی بھی حصے میں اسے
بیماریوں کاسامنا کرنا پڑے تاہم اس کے ساتھ ساتھ اس میں کچھ کمزوریاں بھی
پائی جاتی ہیں اور یہی کمزوریاں اسے مختلف بیماریوں میں مبتلا کرنے کا باعث
بنتی ہیں۔
تمام لوگ اس بات کا صحیح شعورو ادراک نہیں رکھتے کہ کون سی چیز یا شے ان
کے لئے فائدہ مند ہے اور کون سی غذائیں انہیں نقصان پہنچاسکتی ہیں۔ لہٰذا
وہ ایسی اشیاء کااس وقت تک بے دریغ استعمال کرتے رہتے ہیں جب تک کہ اس کے
مضراثرات ان کی صحت پر اثر انداز نہیں ہو جاتے۔ حکیم بقراط کا قول ہے کہ
’’بیماری کوئی بجلی نہیں جو کسی پرآسمان سے اچانک ٹوٹ پڑتی ہو بلکہ یہ آپ
کی ان چھوٹی چھوٹی زیادتیوں اور بے اعتدالیوں کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے
جو آپ روزمرہ کی زندگی میں کرتے رہتے ہیں‘‘ کیا یہ اچھی بات نہیں کہ
بیماری کی نوبت ہی نہ آئے اس کے لئے آپ کو اپنی ان عادات پر قابو پانا
ہوگا ۔
جن کے باعث آپ کو مختلف تکالیف اور امراض کا سامنا کرناپڑتا ہے لہٰذا
اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایسی خوراک سے حتی الامکان گریز کیا جائے جو
آپ کے جسم کو راس نہیں آتی یا جنہیں کھانے کے بعد آپ کا معدہ مشکل
کاشکار ہو جاتا ہے۔ خوراک کے ماہرین نے اس ضمن میں تحقیق کرنے کے بعد چند
ایسے اصول متعارف کرائے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر آپ تاحیات صحت مند رہ
سکتے ہیں بلکہ اس سے طبی عمر میں بھی اضافہ ہوگا۔
آپ کی کوشش ہونی چاہئے کہ کھانا سادہ اور زود ہضم ہو۔بہت زیادہ مرغن
غذا نہ صرف جسم میں فاضل چربی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں بلکہ اس سے دیگر
امراض بھی لاحق ہوسکتے ہیں۔ چونکہ یہ مصالحوں سے بھری ہوتی ہیں اس لئے نظام
انہضام کو متاثر کرتی ہیں اور طبیعت پر بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ بھوک خواہ
کتنی ہی تیز اور شدید کیوں نہ ہو، کھانا ہمیشہ چبا چبا کر کھاناچاہئے تاکہ
ہر لقمے میں لعاب دہن بقدر ضرورت شامل ہو سکے۔ آہستہ کھانے سے کھانانہ صرف
طبیعت اور جسم کو فرحت بخشتا ہے بلکہ آسانی کے ساتھ جزوبدن بھی بن جاتا
ہے۔ آپ اگر سب لوگوں کے بعد دسترخوان سے اٹھتے ہیں تو یہ آپ کے لئے نہایت
ہی اچھا ہے۔

اسی طرح کھانے کے اختتام پر ذرا سی بھوک رکھنابھی ضروری ہے اور کھانے کے
دوران دو تین گھونٹ سے زیادہ پانی نہیں پیناچاہئے۔ پھلوں میں امرود،
تربوز، کیلا، کھجور، گرم میوہ جات ہمیشہ تھوڑی مقدارمیں کھائیں۔ بیشک یہ
چیزیں اپنے اندرافادیت و غذائیت کے خزانے رکھتی ہیں لیکن ان کا ایک ہی وقت
میں زیادہ استعمال اکثر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح مچھلی،گوشت کے کباب
، بازاری اشیاء ، میوؤں کا بنا ہوا حلوہ، زیادہ گھی والے پکوان، مٹھائیاں
اور گھی میں تلی ہوئی ہر قسم کی غذائیں ہمیشہ کم مقدارمیں کھائیں۔ ویسے بھی
ان اشیاء کا کثرت سے استعمال ان کے مخصوص ذائقے کی انفرادیت اور افادیت کو
متاثر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ انڈہ، مچھلی، گوشت ، سالن کی صورت میں بھی کم
کھائیں۔ان چیزوں کا کثرت سے استعمال جسم میں غیر معمولی حرارت اور خون میں
حدت پیدا کر دیتا ہے۔
اس کے علاوہ دل،جگر ،مثانے کی سوزش وحدت تنفس میں عدم توازن اور طبیعت
میں اشتعال و ہیجان کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ اس سے عیش پسندی کا رجحان بھی
ابھرتا ہے۔ بعض لوگ بازار کے کھانوں کی عادت بنالیتے ہیں جو کسی بھی لحاظ
سے بھی درست نہیں جبکہ بازاری کھانے خالصتاً کاروباری نقطہ نظر کو سامنے
رکھ کر تیار کئے گئے ہوتے ہیں جس میں کوالٹی اور معیار کو سامنے نہیں
رکھاجاتا اور دوسرا یہ کہ اس میں مصالحوں کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے جو
انسانی صحت کے لئے مضر ہوتے ہیں، اس لیے آپ حتی الامکان بازاری کھانوں سے
پرہیز کریں اور مجبوری کی صور ت میں محض دال یا سبزی کاانتخاب کریں۔ آپ
کھانا گھرپر کھا رہے ہوں یا ہوٹل میں، ہمیشہ صاف برتن میں کھائیں۔ بہتر
ہوگا کہ کھانا کھانے کے بعد برتنوں کو گرم پانی سے دھویاجائے۔ ہوٹلوںمیں
برتنوں کو گندے پانی میں ہی دھو دیا جاتا ہے۔
جس سے برتنوں میں جراثیم موجود رہتے ہیں جو ہیضہ، دستوں،الٹیوں اور دیگر
معدے کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جسمانی
توانائی قائم رکھنے کے لئے ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہنا ضروری ہے، یہ خیال
سرے سے غلط ہے کیونکہ جب تک آپ کو بھوک نہیں لگتی آپ خواہ کھانے کا وقت
ہوگیا ہو، مت کھائیں۔ایسی صورت میں کھانا کبھی صحت کے لئے فائدہ مند ثابت
نہیں ہوسکتا۔ بھوک نہ لگنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے معدے میں موجود پہلی
غذا ہضم نہیں ہوئی۔ اگر آپ اور کھائیں گے تو معدے پر بوجھ مزید بڑھ جائے
گا نتیجے میں آپ کو کٹھے ڈکار آئیں گے۔
معدے میں تیزابیت بڑھ جائے گی، ہاضمے کی خرابی کی شکایت لاحق ہو جائے گی
،سینہ جلنے لگے گا، غیر منطقی اور عجیب و غریب خواب آنے لگیں گے لہٰذا
کھانا ہمیشہ اس وقت کھائیں جب آپ کو واقعی بھوک محسوس ہو۔ غذا کے انتخاب
میں ہمیشہ محتاط رویہ اختیار کریںایسی غذائیں جو آپ کو متعدد بار نقصان
پہنچا چکی ہوں ان سے گریز کریں یا ان کے استعمال سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ
کریں۔ ہلکی پھلکی ورزش کو اپنا معمول بنائیے، خصوصاً ایسے افراد جو سارا دن
کرسی پر بیٹھ کر کام کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ صبح سویرے ڈیڑھ دو میل تک
چہل قدمی کریں یا دن میں کسی بھی وقت ہلکی پھلکی ورزش ضرور کریں۔
Posted by Unknown | Saturday, September 6, 2014 |
Posted in
Health
لاہور: پنجاب کے مختلف شہروں میں مزید 9 افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں مریضوں کی تعداد 25 ہوگئی ہے۔
محکمہ صحت پنجاب کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر کے سرکاری
اسپتالوں میں زیر علاج مزید 9 مریضوں میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی ہےجس
کے بعد پنجاب میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد 25 ہوگئی ہے۔ نئے مریضوں میں 4
کا تعلق لاہور، 3 مریضوں کا راول پنڈی جبکہ 2 کا تعلق شیخوپورہ سے ہے۔
ڈینگی میں مبتلا مریض راولپنڈی کے بےنظیربھٹواسپتال اورلاہور کے میو اسپتال
میں زیرعلاج ہیں۔
واضح رہے کہ 2012 میں پنجاب میں ڈینگی کی وبا پھیلنے سے 150 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
Posted by Unknown | |
Posted in
Health
لاہور: بچوں کو رات دیر تک ٹیلی وژن نہ دیکھنے دیں کیونکہ نیند کی کمی کسی بیماری کا باعث بن سکتی ہے۔
سٹیلائٹ چلڈرن ریسرچ سینٹر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ والدین کو اس بات
کا دھیان رکھنا چاہیے کہ سونے سے قبل بچے کس نوعیت کے پروگرام دیکھ رہے ہیں
کیونکہ اس کے اثرات بچوں کی نیند کے ساتھ ان کے خوابوں پر بھی رونما ہوتے
ہیں اور اس کا اثر ان کی تعلیم اور دیگر سرگرمیوں پر بھی پڑسکتا ہے۔
Posted by Unknown | |
Posted in
Health
لندن: سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ
کم سونا نہ صرف دماغی بیماریوں کا سبب بنتا ہے بلکہ نیند کی کمی کے باعث
دماغ کا سائز بھی چھوٹا ہو جاتا ہے اس لئے بروقت اور مناسب نیند صحت مند
دماغ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
یورپ بھر میں نیند کی کمی پر کی گئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ نیند کی
کمی خطرناک دماغی بیماریوں کا سبب بنتی ہے، تحقیق کےدوران 20 سال سے 84
سال تک کے 147 افراد کی زندگی کے ساتھ ان کی دماغی بیماریوں اورنیند کے
دورانیہ کا بھی مطالعہ کیا گیا، اس دوران دماغ کے دو سٹی اسکین کئے گئے،
پہلا سٹی اسکین لوگوں کی نیند سے متعلق عادات سے متعلق سوالنامے سے پہلے
کیا گیا اور دوسرا ساڑھے تین سال بعد کیاگیا۔ اس تحقیق سے پتہ چلا کہ 35
فیصد لوگ نیند کی کمی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہیں، سٹی اسکین
سے ثابت ہوا کہ ایسے افراد کے دماغ کا سائز نیند پوری کرنے والوں کے
مقابلے میں زیادہ تیزی سے چھوٹا ہورہا ہے اور جن کی عمر 60 سال سے زائد ہے
اس پر اس کے زیادہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ماہرین طب کا کہنا تھا کہ نیند کی کمی کئی دماغی بیماریوں کا باعث ہے جس
میں الزیمیر اورڈیمینشیا جیسی بیماریاں بھی شامل ہیں جو یاداشت کی کمی اور
سوچ اورفکر کرنے کی صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا اس سے
انسانی جسم کے اندر موجود مدافعتی نظام، دل، وزن اور یاداشت کو بھی متاثر
ہوتا ہے، نیند کی کمی کی وجہ سے دماغ میں پروٹین حد سے بڑھ جاتی ہے جو
دماغی خلیوں پر حملہ آور ہوتی ہے، اس لیے نیند کی کمی کو پورا کرنا صحت
مند دماغ کا بنیادی جز ہے۔
Posted by Unknown | Thursday, September 4, 2014 |
Posted in
Health
واشنگٹن: امریکی سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں ٹماٹر کو دنیا کا سب سے صحت مند پھل قرار دے دیا ہے ۔
امریکی ویب سائیٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق امریکی ماہرین کی
تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹماٹر میں پایا جانے والا آکسیڈنٹ اور لائکوپین
ہڈیوں کو مضبوط رکھنے میں فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے استعمال سے
خواتین کو ہڈیوں اور جوڑوں کے درد کی شکایت نہیں ہوتی۔ ٹماٹر کا استعمال
جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو برقرار رکھتا ہے جس سے امراض قلب کے خدشات کم
ہوتے ہیں اور بڑھتے ہوئے وزن کو قابو میں رکھتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ٹماٹر کا استعمال کرنے والے لوگوں کو ضعیف
العمری میں الزائمر کی بیماری لاحق ہونے کے بھی خدشات کم ہوتے ہیں اس کے
لئے یہ مختلف اقسام کے کینسر سے بھی بچاتا ہے جس کی وجہ سے اسے بلاشبہ دنیا
کا سب سے صحت مند پھل قرار دیا جاسکتا ہے۔