Published On:Friday, September 5, 2014
Posted by Unknown
مذاکراتی کمیٹیاں ملتی رہیں لیکن وزیراعظم کا استعفیٰ لئے بغیر نہیں جاؤں گا، عمران خان
اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، مذاکراتی کمیٹیاں ملتی رہیں لیکن وزیراعظم نواز شریف کا استعفیٰ لئے بغیر دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے
ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم فوج نہیں عوام کے اشارے پر یہاں آئے
ہیں، فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، فوج سیاسی معاملے میں مداخلت
نہیں کر رہی۔ اسمبلی میں سب سے زیادہ مولانا فضل الرحمان اور محمود اچکزئی
شور مچا رہے ہیں، جو جتنا شور مچارہا ہے اتنا ہی بڑا ڈاکو ہے۔ انہوں نے کہا
کہ حکومت نے پہلے ماڈل ٹاؤن اور اب اسلام آباد میں پولیس کے ہاتھوں عوام
کو تشدد کا نشانہ بنایا، پولیس کے گلو بٹوں نے پرامن لوگوں پر ظلم کیا اور
45 لوگوں کو گولیاں ماریں، کس جمہوریت میں عوام پر گولیاں چلائی جاتی ہیں۔
چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے کہا
جارہا ہے کہ چینی صدر سرمایہ کاری کیلئے پاکستان آرہے تھے، وہ سرمایہ
کاری کے لئے نہیں بلکہ حکومت چین سے 35 ارب ڈالر قرضہ لینے جارہی تھی، چینی
صدر کا دورہ ہماری نہیں بلکہ 800 کنٹینرز لگانے کی وجہ سے ملتوی ہوا اگر
چینی صدر نہیں آئے تو اس میں تحریک انصاف قصور وار نہیں۔
عمران خان نے انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے کہا کہ
دھاندلی میں سابق چیف جسٹس، الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسران ملے ہوئے تھے
جبکہ نواز شریف، الیکشن کمیشن اور افتخار محمد چوہدری نے مل کر میچ فکس کیا
جبکہ میرے حلقے میں 9 ماہ سے اسپیکر قومی اسمبلی ابھی تک عدالت کے اسٹے
آرڈر کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور بادشاہت میں
فرق ہوتا ہے، یہاں حکمرانی کے لئے اپنے بچے تیار کئے جارہے ہیں، 500 سے ایک
ہزار افراد قرضے لے کر عوام کا خون چوس رہے ہیں، حکمران ہوا پر بھی ٹیکس
لگا کر عوام سے وصولی کریں گے۔


Ye kiya ho ray hain