اٹلی میں تیارکیا گیا ہے دنیا کا خوبصورت اورمہنگا ترین باتھ ٹاب
Posted by Unknown | Saturday, September 6, 2014 | Posted in Weird
روم: جی ہاں جو تصویرآپ کو نظرآرہی ہے وہ کسی مصورکی بنائی گئی کوئی پینٹنگز نہیں بلکہ واش روم کے لئے بنائے گئے خوبصورت باتھ ٹب کی ہے۔
باتھ ٹب کا ڈیزائن خواتین کو مدنظررکھتے ہوئے تیار کیا
گیا ہے کیوں کہ جو تصویرآپ کونظرآرہی ہے اس سے واضح طور پر اس بات کا پتہ
چلتا ہے کہ اس کاڈیزائن خواتین کی اونچی ہیل والی سینڈل جیسا ہے،باتھ ٹب کے
بیرونی حصوں پر پھول بوٹوں کے خوبصورت نقش ونگار کئے گئے ہیں جب کہ
اندرونی سطح کو مضبوط بنانے کے لئے مصنوعی ریشوں کا استعمال کیا گیا ہے۔
ابتدا میں تو اس باتھ ٹب کی قیمت 17ہزارامریکی ڈالر تھی
تاہم اس کی تیاری میں پلاٹینیم دھات کا استعمال کرنے سے اس کی قیمت بڑھ کر
41 ہزارڈالرہوگئی ہے، اطالوی کمپنی کے یہ ٹب 12مختلف رنگوں کے پھول بوٹوں
میں میں دستیاب ہیں جب کہ یہ باتھ ٹب اٹلی میں آئندہ ماہ ہونے والی نمائش
کے دوران بھی رکھے جائیں گے۔
امریکا میں گریٹ ڈین نامی کتے کی مرغوب غذا جرابیں کھانا ہے
Posted by Unknown | Thursday, September 4, 2014 | Posted in Weird
نیو یارک: کہتے ہیں کچھ انسانوں اور جانوروں کا ہاضمہ اتنا مضبوط ہوتا ہے وہ پتھر اور لوہا بھی کھا جائیں تو ہضم ہو جاتا ہے تاہم امریکا میں ایک کتا ایسا بھی ہے جو جرابیں کھانے کا شوقین ہے اور جب تک اسے جرابوں کی ایک جوڑی نہ ملے تو اس کی بھوک ختم ہی نہیں ہوتی۔
گریٹ ڈٓین نامی اس کتے کی عمر تو ہے صرف 3 سال لیکن وہ
آج کل امریکا بھر میں توجہ کا مرکزبنا ہوا ہے کیوں گرین ڈین اب تک مختلف
رنگ اور ڈیزائن کی جرابوں کی 44 جوڑیوں کو اپنی خوراک بنا چکا ہے لیکن شاید
یہ کچھ زیادہ ہی ہوگیا کیونکہ وہ بیمار ہوگیا اور اسے اسپتال لے جانا پڑا۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اسپتال لے جانے سے پہلے تک کسی کو نہیں معلوم تھا
کہ ڈین کی مرغوب غذ ا جرابیں ہیں یہاں تک کہ اس کی مالکہ بھی اس سے بے خبر
تھی۔
اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب ڈین کا ایکسرے کیا گیا تو
پتہ چلا کہ اس کے پیٹ جرابوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے، ہر رنگ اور ڈیزائن کی
جراب اس کے پیٹ میں موجود ہے، ڈین یہ جرابیں چوری کرکے کھاتا تھا، جہاں
بھی جراب کی خوشبو اس کی ناک سے ٹکرائی وہ وہیں چلا جاتا تھا، اس طرح وہ 44
جرابوں کی جوڑی کھا گیا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ ڈاکٹرزکا کہنا
ہے کہ جب ڈین کا آپریشن کرکے پیٹ کھولا گیا تو وہ جرابوں کا ڈھیرتھا۔
دلچسپ اور مزے کی بات یہ ہے کہ ڈین کی یہ محنت رائیگاں
نہیں گئی بلکہ اس کے پیٹ سے نکلی جرابوں کو ویٹرنیری پریکٹس نیوز مقابلے
میں رکھ دیا گیا اور یہاں اس نے 500 ڈالر کا انعام جیت لیا۔
وائلن کی دھن پر ناچتے ہاتھیوں نے انٹرنیٹ پر دھوم مچا دی
Posted by Unknown | | Posted in Weird
نیویارک: انسانوں کو تو آپ نے ڈانس کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھا ہی ہوگا لیکن اب تو ہاتھی بھی اپنی پسندیدیہ دھنوں پر ناچنے لگے ہیں۔
امریکا کے ایک سرکس میں موجود ان ہاتھیوں کو ہی دیکھ لیجیے جو وائلن کی
دھن پر رقص کا ایسا شاندار مظاہرہ پیش کرتے ہیں جسے دیکھ کر یہاں آنے والے
سیاح بھی حیران رہ جاتے ہیں۔ ہاتھی کبھی اپنی گردن ہلاتے ہیں تو کبھی اپنے
انتہائی وزنی پیر اٹھا کر جھومتے رہتے ہیں اور یہ ثابت کردیتے ہیں کہ اگر
دھن اچھی ہو تو ہاتھی بھی ناچ سکتے ہیں۔
کیلی اور وایو لانامی ان ہاتھیوں کی ڈانس پرفارمنس پر مبنی وڈیو ان دنوں انٹرنیٹ پر لاکھوں افراد کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
بھارت میں راستہ دکھانے والے ’’لے چل‘‘ جوتے جلد ہی منظر عام پر
Posted by Unknown | Monday, September 1, 2014 | Posted in Weird
حیدر آباد: بھارت میں جی پی ایس ٹیکنالوجی کے حامل اسمارٹ اسپورٹس جوتے جلد ہی اپنے پہننے والوں کے لیے رہنمائی کا کام کرتے نظر آئیں گے۔ یہ جوتے ارتعاش کے ذریعے مقررہ راستے تک لے جایا کریں گے۔
انگریزی فلم ’’وزرڈ آف اوز‘‘ میں ہیروئن کو بس ایک بٹن دبانے کی ضرورت
ہوا کرتی تھی اور اس کے سرخ رنگ کے جوتے لمحوں میں اسے کنساس میں واقع اس
کے گھر تک لے جایا کرتے تھے۔ تاہم ہالی وْڈ کی فلم کی یہ خیالاتی ایجاد اب
جلد ہی اپنی حقیقی شکل میں بھارت میں نظر آئے گی۔
بھارت کے ’’لے چل‘‘ نامی یہ جوتے رواں ماہ ستمبر میں فروخت کے لیے پیش
کیے جا رہے ہیں، جو اپنے پہننے والے شخص کو نہ صرف راستہ اور سمت بتائیں گے
بلکہ یہ بھی بتائیں گے کہ کتنے قدم چل لیے گئے، کتنا فاصلہ طے ہوا اور
کتنی کیلوریز استعمال ہوئیں۔ یہ جوتے بلیو ٹوتھ ٹیکنالوجی کے حامل ہیں اور
پہننے والے کے اسمارٹ فون سے لنکڈ ہوں گے اور اسمارٹ فون میں موجود گوگل
میپس کی سہولت استعمال کرتے ہوئے یہ تمام سرگرمیاں انجام دیں گے۔
بتایا گیا ہے کہ جوتوں میں نصب یہ ڈیٹیچ ایبل بلیو ٹوتھ آلہ دائیں مڑنے
کے لیے دایاں اور بائیں مڑنے کے لیے بایاں جوتا مرتعش کرے گا اور پہننے
والے کو مڑ جانے کا اشارہ دے دے گا۔ یہ جوتے 30 سالہ کرسپین لارنس اور 28
سالہ انیرْد شرما کی ایجاد ہیں، جنہوں نے انجینئرنگ کی تعلم حاصل کی اور
2011ء میں ایک چھوٹے سے فلیٹ میں ان جوتوں کی تیاری پر کام کیا۔ اب انھیں
اس سلسلے میں سرمایہ کار دستیاب ہو گئے ہیں، جب کہ انھوں نے اس سلسلے میں
50 ملازمین بھی رکھ لیے ہیں۔

